[17] متآ رھبرن تراھب یک ریمعت ںیم میلعت روا لکسا اک رادرک : لکوو راف لکول ےک رظانت ں
How to Cite the Article: Pradeep Kumar & Farheen Anjum (2026). آتم نربھر بھارت کی تعمیر میں تعلیم اور اسکل کا کردار: ووکل فار لوکل کے تناظر میں. International Journal of Multidisciplinary Research & Reviews, 5(6),204-212.
Abstract
موجودہ صدی میں عالمگیریت، ڈیجیٹل انقلاب، مصنوعی ذہانت اور تیز رفتار تکنیکی ترقی نے دنیا کی اقتصادی اور تعلیمی ساخت کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں ہر ملک کے لیے یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ وہ اپنی داخلی اقتصادی صلاحیتوں کو مضبوط کرے اور بیرونی انحصار میں کمی لائے۔ بھارت میں “آتم نربھر بھارت” اور “ووکل فار لوکل” جیسے قومی اقدامات اسی وسیع تر وژن کا حصہ ہیں، جن کا بنیادی مقصد مقامی صنعتوں، چھوٹے کاروباروں، روایتی ہنر اور گھریلو پیداوار کو فروغ دینا ہے تاکہ ملک اقتصادی طور پر مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بن سکے۔ زیرِ نظر مقالہ اس امر کا تحقیقی جائزہ پیش کرتا ہے کہ تعلیم اور مہارت کی ترقی آتم نربھر بھارت کے قیام میں کس طرح بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس مطالعے میں قومی تعلیمی پالیسی 2020، اسکل انڈیا مشن، میک اِن انڈیا، ڈیجیٹل انڈیا اور اسٹارٹ اپ انڈیا جیسے پروگراموں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، جرمنی، چین اور فن لینڈ کے تعلیمی و فنی تربیتی ماڈلز کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ جدید تعلیمی نظام اقتصادی ترقی اور اختراع کو کس طرح فروغ دیتا ہے۔ یہ تحقیق اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اگر تعلیم کو عملی مہارت، کاروباری صلاحیت، اختراع، ٹیکنالوجی اور مقامی اقتصادی ضروریات کے ساتھ مربوط کیا جائے تو نہ صرف نوجوانوں میں خود روزگاری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں بلکہ مقامی صنعتوں کو بھی نئی توانائی حاصل ہو سکتی ہے۔ مقالے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے، صنعتیں اور حکومتی پالیسیاں اگر باہمی اشتراک کے ساتھ کام کریں تو بھارت کو حقیقی معنوں میں خود کفیل معیشت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔













